کرم ایجنسی کا مستقل حل بلا تفریق آپریشن
تحریر : عمران طارق
کرم ایجنسی کا مسئلہ سنگین صورت حال کی شکل اختیار کررہا ہے، عوامی اور مشران کے تجاویز پر غور نہیں کیا جارہا، اسٹبلشمنٹ کے افراد قبائلی روایات کو سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں، مری کے بعد یہ معاہدہ بھی ختم ہوتے نظر آرہا ہے، ڈی سی کرم جاوید اللہ محسود پر حملے کے بعد سوشل میڈیا پر شرپسند عناصر نے جو طوفان برپا کیا ہے، اس نے حقائق کو مسخ کردیا ہے، پاکستانی عوام کو اس پروپیگنڈے میں مظلوم اور ظالم میں فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے، کرم ایجنسی میں گذشتہ کئی برسوں سے جاری واقعات اور قتل عام کے کئی پہلو اور وجوہات ہیں، لیکن میڈیا کے پاس معلومات کی کمی کی ایک وجہ شائد یہ بھی ہے کہ ہر ایک کی وہاں پہنچ نہیں ہے، اور اگر کوئی خبر باہر آتی بھی ہے تو اس میں پراکسیز ملوث ہوتی ہیں، جس سے ملک میں مزید حالات خراب ہونے کا خدشات بڑجاتے ہیں،اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف تحقیقات کرے،کہ کس فریق نے پاکستان کا جھنڈا اتار کر پاوں تلے روندا؟ اور کس نے پاکستانی جھنڈے کی جگہ زینبیون کا جھنڈا بلند کیا؟کون کس ملک کے پراکسی کے طور پر کھلے عام اعلانات کررہا ہے، اور وہ کون ہے جنھوں نے کراچی سمیت پورے ملک میں ریاست کو چیلنج کیا،؟ اگر ان پہلو پر توجہ نہیں دی گئی تو یہ پاکستان کی سالمیت کو خطرات سے دوچار کرسکتا ہے، جس طرح شام،عراق یمن،اور لبنان میں ہوا، سوال یہ ہے کہ ریاستی ادارے اس پر توجہ کیوں نہیں دے رہے؟۔
اسی حوالے سے گذشتہ دنوں کرم ایجنسی اور کوہاٹ کے سنی مشران کا ایک وفد کراچی آیا ہوا تھا، جن کا مقصد حالات کی اصل حقیقت سے آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی آواز اور فریاد ملک کے کونے کونے کو پہنچانا تھا، وفد کے رہنما پیر شاہنواز نے بتاہا ہم طویل مدت کے لئے امن چاہتے ہیں، ہم صرف سڑک پر امن کا مطالبہ نہیں کررہے، ہم چاہتے کہ کرم ایجنسی میں مکمل امن قائم ہو، عوام اور تنظیمیوں کے پاس غیر ملکی میزائیل نہ ہوں،اہلسنت ہتھیار جمع کرانے کو تیار ہیں، لیکن دوسرے فریق کے کئی رہنماوں نے کھلے عام کہا ہے کہ وہ ہتھیار نہیں جمع کرائینگے،ریاست کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، بارڈر پر سنی قبائل رہتے ہیں، وہاں اگر ہم ہتھیار جمع کرانے کو تیار ہیں، تو دوسرا فریق کیوں اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کو ماننے سے انکاری ہے؟ سانحہ بگن جیسے ہزاروں افراد نے مل کر جلایا، لاشوں کی بے حرمتی کی گئی، حکومت ان کا ازالہ کرے، تاکہ عوام کو احساس ہو کہ حکمران ان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں،سڑک کھولنا مسئلے کا حل نہیں، بنیادی حل مکمل امن میں پوشیدہ ہے، عارضی فیصلے عارضی ہوتے ہیں، قبائل کے مشران کے مشوروں کو ترجیع دی جائے،تاکہ مستقل امن قائم ہو۔
وفد کے دوسرے رہنما مفتی دین محمد نے بتایا، ہم اپیکس کمیٹی سمیت تمام فیصلوں کے عملی نافذ کے حامی ہیں، لیکن ایسا نہ ہو کہ آپریشن ایک فریق کا کیا جائے، جیسے کہ ماضی میں بھی ہوا ہے، صاف شفاف آپریشن جس میں لحاظ نہ برتا جائے، لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شائد نہ ہوسکے، مخالف فریق چند افراد کے دھرنوں اور میڈیا میں موجود اپنے آلہ کاروں کے ذریعے ایسا ماحول بنالیتا ہے کہ وہ مظلوم نظر آتے ہیں، ریاست کے اندر ریاست نظر آتی ہے،جو کہ شائد بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، ہم نے ہمیشہ پاکستان کی سالیمت کی دفاع کی ہے سنی قبائل سرحدی عاقوں پر آباد ہیں، جس کی وجہ سے کبھی بھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا، ہم یہی چاہتے ہیں، کہ پاکستانی حکمران اور عوام کو اس بات کا ادراک ہو کہ جو میڈیا اور سوشل میڈیا پر دکھایا گیا، نوے فیصد اس طرح نہیں ہے، ظالم اپنے آپ کو مظلوم پیش کررہا ہے،۔
دوسری جانب خیبرپختون خوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کے میڈیا پرکئی بیانات ہیں کہ امن معاہدہ اپنی جگہ موجود ہے، صرف کانوائے کو روک لیا گیا ہے، ڈی سی کرم جاوید محسود پر حملے کے تحقیقات ہورہی ہے۔ اچھی بات ہے تحقیقات ہونی چاہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ بگن میں دھرنا پر بیٹھے ہوئے متاثرین بگن کی آواز سننے کو ئی تیار ہے؟ ان کے گھر جلائے گئے،ان کے دوکانوں کو جلایا گیا، اور وہ بھی لشکر کشی کرکے،ایک دو افرا د نہیں ہزاروں افراد اس لشکر کشی میں موجود تھے،ان کی ویڈیوز خود انہوں نے سوشل میڈیا پر فخریہ شئیر کی ہیں،ان کی داد رسی کون کرے گا؟ اگر ان کی داد رسی نہیں کئی گئی تو اس کے اثرات کیا ہونگے؟ کیا اس سے پورا ملک ایک بار پھر مذہبی فرقہ ورانہ لڑائیوں میں پڑھ جائے گا؟ کیا ایہ عالمی ایجنڈے کو تقویت دینا نہیں ہے؟ کیا پاکستان کے خلاف سازش تو نہیں؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ زینبون کی پشت پناہی کرنے والے ملک کو پیغام دیا جائے کہ بس ہوگیا ہے، ان تنظیموں کی پشت پناہی وہ بند کرے، پاکستان شام لبنان اور عراق نہیں ہے۔سوال کہیں ہیں اور جواب ایک کیا ریاست پاکستان کے ریاستی اداروں کو اس کا ادراک ہے؟ اور اگر ہے تو خاموش کیوں ہیں؟ آخری بات وہ کون لوگ ہیں جنھوں نے گذشتہ چھ ماہ سے ایک بار پھر کرم ایجنسی کو آگ اور خون میں تبدیل کردیا ہے؟ کیا یہ واقعی ہی زمین یا فرقہ ورانہ لڑائی ہے؟ یا اس کی پشت پر حکومت یا اسٹبلشمنت میں موجود عالمی طاقتوں کے آلہ کار ملوث ہیں؟ کیونکہ جب بھی امن کی طرف بات بڑھتی ہے تو کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہوجاتا ہے یا کروایا جاتا ہے،سوال کرم ایجنسی میں طویل مدتی امن کا ہے،صرف سڑک کھولنے سے یہ ممکن نہیں ہوگا، ایک آپریشن جس میں بلاتفریق دونوں فریقوں سے ہتھیار جمع کئے جائے، سوشل میڈیا پر فعال شرپسندوں کی سرکوبی کی جائے تب ہی ممکن ہے، لیکن کیا ایسا ہوگا؟